مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُصَافَحَةِ وَالسَّلَامِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: مصافحہ کرنا سلام کرنا اور اس کی مانند دیگر امور کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ الْمُسْلِمَيْنِ إِذَا الْتَقَيَا فَتَصَافَحَا وَتَسَايَلَا ، أَنْزَلَ اللَّهُ بَيْنَهُمَا مِائَةَ رَحْمَةٍ ، تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِأَبَشِّهِمَا وَأَطْلَقِهِمَا وَأَبَرِّهِمَا وَأَحْسَنِهِمَا صَابَلَةً بِأَخِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عَدِيٍّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب دو مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے حال احوال پوچھتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان ایک سو رحمتیں نازل کرتا ہے ، جن میں سے ننانوے رحمتیں اس شخص کے لئے ہوتی ہیں ، جو زیادہ خندہ پیشانی ، خوش مزاجی ، اچھائی اور اچھے طریقے سے اپنے بھائی سے ملتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن کثیر بن عدی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔