مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُصَافَحَةِ وَالسَّلَامِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: مصافحہ کرنا سلام کرنا اور اس کی مانند دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 12768
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقِيَ حُذَيْفَةَ ، فَأَرَادَ أَنْ يُصَافِحَهُ ، فَتَنَحَّى حُذَيْفَةُ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَقَالَ : ¤ " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا صَافَحَ أَخَاهُ تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُمَا ، كَمَا يَتَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ نے ان کے ساتھ مصافحہ کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے ، انہوں نے عرض کی : میں جنابت کی حالت میں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب مسلمان اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے ، تو ان دونوں کے گناہ یوں جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔