مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُصَافَحَةِ وَالسَّلَامِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: مصافحہ کرنا سلام کرنا اور اس کی مانند دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 12767
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِذَا الْتَقَى الرَّجُلَانِ الْمُسْلِمَانِ فَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ ، فَإِنَّ أَحَبَّهُمَا إِلَى اللَّهِ أَحْسَنُهُمَا بِشْرًا بِصَاحِبِهِ ، فَإِذَا تَصَافَحَا نَزَلَتْ عَلَيْهِمَا مِائَةُ رَحْمَةٍ ، لِلْبَادِئِ مِنْهُمَا تِسْعُونَ ، وَلِلْمُصَافِحِ عَشْرَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب دو مسلمان شخص ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرتا ہے ، تو ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے ، جو دوسرے کے ساتھ زیادہ خندہ پیشانی سے ملتا ہے ، اور جب وہ دونوں مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں پر سو رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، ان دونوں میں سے پہل کرنے والے کو نوے ( رحمتیں ) ملتی ہیں ، اور مصافحہ کرنے والے کو دس ( رحمتیں ) ملتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔