مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُصَافَحَةِ وَالسَّلَامِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: مصافحہ کرنا سلام کرنا اور اس کی مانند دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 12766
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا لَقِيَ الْمُؤْمِنَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ فَصَافَحَهُ ، تَنَاثَرَتْ خَطَايَاهُمَا كَمَا يَتَنَاثَرُ وَرَقُ الشَّجَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الطَّحْلَاءِ ، رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی مومن کسی دوسرے مومن سے ملتا ہے ، اور اس کو سلام کرتا ہے ، اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے ، تو ان دونوں کے گناہ یوں جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں ایک راوی یعقوب بن محمد بن طحلاء ہے ، جس سے ایک سے زیادہ افراد نے روایات نقل کی ہیں اور کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔