مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّلَامِ وَإِفْشَائِهِ وَفَضْلِهِ باب: سلام کرنے ، اس کو پھیلانے اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12723
عَنْ هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُرَيْحٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ . قَالَ : " إِنَّ مِنْ مُوجِبَاتِ الْمَغْفِرَةِ بَذْلُ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ہانی بن یزید ابوشریح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری کسی ایسے عمل کی طرف رہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” مغفرت کو واجب کرنے والی چیزوں میں سلام کو پھیلانا اور عمدہ گفتگو کرنا شامل ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن عبداللہ اشجعی ہے ، امام أحمد بن حنبل اور دیگر حضرات نے اس سے روایات نقل کی ہیں ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔