مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّلَامِ وَإِفْشَائِهِ وَفَضْلِهِ باب: سلام کرنے ، اس کو پھیلانے اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " السَّلَامُ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى وَضَعَهُ فِي الْأَرْضِ ، فَأَفْشُوهُ بَيْنَكُمْ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَوْمٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ ، كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ فَضْلُ دَرَجَةٍ بِتَذْكِيرِهِ إِيَّاهُمْ ، فَإِنْ لَمْ يَرُدُّوا عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمْ وَأَطْيَبُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَأَحَدُهُمَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ عِنْدَ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” السلام ، اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے ، جسے اس نے زمین میں رکھا ہے ، تو تم اسے اپنے درمیان پھیلاؤ ، مسلمان شخص جب کسی قوم کے پاس سے گزرے تو وہ انہیں سلام کرے اور وہ اس کو جواب دیں تو اس شخص کو ان لوگوں پر ایک درجہ کی فضیلت حاصل ہوتی ہے کہ اُس نے ان لوگوں کو اس نام کی یاد دلائی ہے ، اور اگر وہ لوگ اسے جواب نہ دیں تو اس ( سلام کرنے والے کو ) وہ جواب دیتا ہے ، جو ان لوگوں سے زیادہ بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، جو امام بزار اور امام طبرانی کی نقل کردہ روایت میں ہے ۔