وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ أَنَّهُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَهُ ، وَفِتْيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ حَلُّوا أُزُرَهُمْ فَجَعَلُوهَا مَخَارِيقَ ، يَجْتَلِدُونَ بِهَا وَهُمْ عُرَاةٌ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَمَّا مَرَرْنَا بِهِمْ قَالُوا : إِنَّ هَؤُلَاءِ قِسِّيسُونَ فَدَعُوهُمْ . ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا أَبْصَرُوهُ تَبَدَّدُوا ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُغْضَبًا حَتَّى دَخَلَ ، وَكُنْتُ وَرَاءَ الْحُجْرَةِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، لَا مِنَ اللَّهِ اسْتَحْيَوْا ، وَلَا مِنْ رَسُولِهِ اسْتَتَرُوا " . وَأُمُّ أَيْمَنَ عِنْدَهُ تَقُولُ : اسْتَغْفِرْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبِلَأْيٍ مَا اسْتَغْفَرَ لَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - : فَبِأَبِي مَا اسْتَغْفَرَ لَهُمْ . ¤ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ اور ان کے ساتھی گزرے ، قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوانوں نے اپنے تہبند اتارے ہوئے تھے اور ان کے کوڑے بنائے ہوئے تھے اور وہ ایک دوسرے کو مار رہے تھے ، اور وہ لوگ برہنہ تھے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب ہم ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: یہ نیک لوگ ہیں ، انہیں رہنے دو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس سے گزرے ، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پردہ نہیں کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس تشریف لائے ، تو آپ غصے کے عالم میں تھے ، آپ اندر داخل ہوئے ، میں حجرے کے باہر ہی تھا ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ان لوگوں نے نہ اللہ سے حیاء کی ہے اور نہ اس کے رسول سے پردہ کیا ۔ “ اس وقت سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں اور یہ کہہ رہی تھیں یا رسول اللہ ! آپ ان کے لئے دعائے مغفرت کیجئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعائے مغفرت نہیں کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے باپ کی قسم ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعائے مغفرت نہیں کی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اور امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔