مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ باب: اچھے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَرْأَةُ يَكُونُ لَهَا زَوْجَانِ ثُمَّ تَمُوتُ ، فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ هِيَ وَزَوْجَاهَا ، لِأَيِّهِمَا تَكُونُ لِلْأَوَّلِ أَوْ لِلْآخَرِ ؟ قَالَ : " تُخَيَّرُ أَحْسَنُهُمَا خُلُقًا كَانَ مَعَهَا فِي الدُّنْيَا يَكُونُ زَوْجَهَا فِي الْجَنَّةِ ، يَا أُمَّ حَبِيبَةَ ، ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ رَضِيَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَهُوَ أَسْوَأُ أَهْلِ الْإِسْنَادِ حَالًا . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي النِّكَاحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بعض اوقات ( دنیا میں ) کسی عورت کے دو شوہر رہے ہوتے ہیں ، پھر وہ عورت انتقال کر جاتی ہے ، اور جنت میں داخل ہو جاتی ہے ، اور اس کے دونوں شوہر بھی جنت میں داخل ہو جاتے ہیں ، تو وہ عورت ان دونوں میں سے کس کو ملے گی ، پہلے والے شوہر کو ؟ یا دوسرے والے شوہر کو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس عورت کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ دنیا میں جو شخص اس کے ساتھ زیادہ اچھے اخلاق کے ساتھ تھا ، وہی جنت میں اس کا شوہر ہو گا ۔ اے اُمّ حبیبہ ! اچھے اخلاق دنیا اور آخرت کی بھلائی لے گئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ابوحاتم اس سے راضی تھے اور حالت کے اعتبار سے ، سند میں وہ تمام راویوں سے برا ہے ۔ اس سے پہلے اس حدیث کے مختلف طرق کتاب النکاح میں گزر چکے ہیں ۔