مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ باب: اچھے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأْسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ التَّحَبُّبُ إِلَى النَّاسِ " . قَالَ : وَبِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا مِنَ اللَّهِ " . قِيلَ : وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " حِلْمٌ يَرُدُّ بِهِ جَهْلَ الْجَاهِلِ ، وَحُسْنُ خُلُقٍ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ ، وَوَرَعٌ يَحْجِزُهُ عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ كُلُّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کے بعد سب سے زیادہ سمجھ داری لوگوں سے محبت رکھنا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں جس شخص میں نہیں ہوں گی اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسی بردباری جس کے ذریعے وہ جاہل کی جہالت کو پرے کر سکے اور ایسے اچھے اخلاق جن کے ہمراہ وہ لوگوں سے ملے اور ایسی پرہیزگاری جو اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے روک کے رکھے ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، میں جن سے واقف نہیں ہوں ۔