حدیث نمبر: 12667
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَفَعَهُ قَالَ : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا ، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُتَشَدِّقُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ " . ¤ قُلْتُ لِابْنِ بَهْدَلَةَ : مَا الْمُتَفَيْهِقُونَ ؟ قَالَ : " الْمُتَكَبِّرُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ اللَّهِ الرَّمَادِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تم میں سے میرے سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہوں گے جو اخلاق کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہوں گے ، اور قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ لوگ ہوں گے جو چبا چبا کر بنا سنوار کے باتیں کریں گے ( یا تکبر کا اظہار کریں گے ) ۔ “ اس روایت کے ایک راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے استاد ابن بہدلہ سے دریافت کیا : لفظ متفیہقون سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تکبر کرنے والے لوگ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہوں جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں “ ۔
( راوی بیان کرتے ہیں ) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ” جن کے اطراف بچھے ہوئے ہوں ( یعنی وہ نرمی اختیار کئے ہوں ) ۔ “
امام بزار کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ رمادی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1969) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10424)»