حدیث نمبر: 12668
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا ، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ . وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ ، الْمُلْتَمِسُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَيْبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے میرے زیادہ محبوب وہ لوگ ہوں گے ، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے ، اور جن کے اطراف بچھے ہوئے ہوں گے ، جو الفت رکھتے ہوں گے اور ان سے الفت رکھی جاتی ہو گی ، اور تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ لوگ ہوں گے جو چغلی کرنے والے ہوں گے ، اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے ہوں گے ، اور لوگوں کے عیوب تلاش کرنے والے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12668
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (835)»