مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مُدَارَاةِ النَّاسِ وَمَنْ لَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ باب: لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا اور جس شخص کے شر سے محفوظ نہ رہا جائے
حدیث نمبر: 12632
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ شَرًّا ، فَرَحَّبَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَفَا قَالَ : " إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مَنْ يَخَافُ النَّاسُ شَرَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوش آمدید کہا: ، جب وہ شخص چلا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے برا شخص وہ ہو گا جس کے شر سے لوگ خوف زدہ رہتے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطیر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔