مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مُدَارَاةِ النَّاسِ وَمَنْ لَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ باب: لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا اور جس شخص کے شر سے محفوظ نہ رہا جائے
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَأَدْنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَرَّبَهُ ، فَلَمَّا قَامَ قَالَ : " يَا بُرَيْدَةُ أَتَعْرِفُ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ ، هَذَا أَوْسَطُ قُرَيْشٍ حَسَبًا ، وَأَكْثَرُهُمْ مَالًا - ثَلَاثًا - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَنْبَأْتُكَ بِعِلْمِي فِيهِ ، فَأَنْتَ أَعْلَمُ . فَقَالَ : " هَذَا مِمَّنْ لَا يُقِيمُ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پاس کیا اور قریب کیا ، جب وہ شخص اٹھ کے چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اے بریدہ ! کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یہ حسب کے اعتبار سے قریش کا درمیانی درجہ کا شخص ہے لیکن مال کے اعتبار سے سب سے زیادہ مال والا ہے ، یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا ، پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق آپ کو بتایا ہے ، ویسے آپ بہتر جانتے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ان افراد میں سے ایک ہے جن کے لئے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میزان نہیں رکھے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔