مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْخِ وَالْقَذْفِ وَإِرْسَالِ الشَّيَاطِينِ وَالصَّوَاعِقِ باب: مسخ کیے جانے ، پتھر مارے جانے ، شیاطین کو چھوڑے جانے اور بجلیاں گرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ بَعْدِي خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُخْسَفُ بِالْأَرْضِ وَفِيهَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَكْثَرَ أَهْلُهَا الْخَبَثَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میرے بعد مشرق میں ایک زمین میں دھنسایا جانا اور مغرب میں جزیرہ نما عرب میں ایک زمین میں دھنسایا جانا ہو گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا زمین میں لوگوں کو دھنسا دیا جائے گا جبکہ ان میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جب وہاں کے رہنے والوں میں کثرت خبیث لوگوں کی ہو گی ( تو ایسا ہی ہو گا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔