مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْخِ وَالْقَذْفِ وَإِرْسَالِ الشَّيَاطِينِ وَالصَّوَاعِقِ باب: مسخ کیے جانے ، پتھر مارے جانے ، شیاطین کو چھوڑے جانے اور بجلیاں گرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12596
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّنْ مُسِخَ ، أَيَكُونُ لَهُ نَسْلٌ ؟ قَالَ : " مَا مُسِخَ أَحَدٌ قَطُّ فَكَانَ لَهُ نَسْلٌ وَلَا عَقِبٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسخ کیے جانے کے بارے میں دریافت کیا : کیا ان لوگوں کی نسل ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کسی قوم کو مسخ کیا گیا تو نہ ان کی نسل ہوئی اور نہ ان کی اولاد رہی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔