مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْخِ وَالْقَذْفِ وَإِرْسَالِ الشَّيَاطِينِ وَالصَّوَاعِقِ باب: مسخ کیے جانے ، پتھر مارے جانے ، شیاطین کو چھوڑے جانے اور بجلیاں گرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تُدَاوِي الْجَرْحَى فِي عَسْكَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ لِابْنِي . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُنَيْسٌ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . فَأَقْعَدَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ : " يَا أُنَيْسُ ، إِنَّ الْمُسْلِمِينَ يُمَصِّرُونَ بَعْدِي أَمْصَارًا ، مِمَّا يُمَصِّرُونَ . مِصْرًا يُقَالُ لَهَا : الْبَصْرَةُ ، فَإِنْ أَنْتَ وَرَدْتَهَا ، فَإِيَّاكَ وَمَقْصِفَهَا وَسُوقَهَا وَبَابَ سُلْطَانِهَا ، فَإِنَّهَا سَيَكُونُ بِهَا خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ ، آيَةُ ذَلِكَ أَنْ يَمُوتَ الْعَدْلُ ، وَيَفْشُوَ فِيهَا الْجُورُ ، وَيَكْثُرَ فِيهَا الزِّنَا ، وَتَفْشُوَ فِيهَا شَهَادَةُ الزُّورِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ میرے بیٹے کے لئے دعا کر دیں تو ( عنایت ہو گی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ننھے انس کے لئے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعا کی : اے ننھے انس ! مسلمان میرے بعد مختلف شہر آباد کریں گے ، جو شہر وہ آباد کریں گے ، ان میں سے ایک ایسا شہر ہو گا جس کا نام بصرہ ہو گا ، اگر تم وہاں جاؤ تو وہاں کے لہو و لعب کے مقامات ، وہاں کے بازار اور وہاں کے حکمران کے دروازے سے بچ کے رہنا ، کیونکہ وہاں زمین میں دھنسائے جانے ، مسخ کیے جانے اور پتھر مارے جانے کا عذاب ہو گا ، اس کی نشانی یہ ہے کہ عادل شخص مر جائے گا ، تو وہاں ظلم پھیل جائے گا ، اور وہاں زنا کثرت سے پھیل جائے گا ، اور وہاں جھوٹی گواہیاں پھیل جائیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔