حدیث نمبر: 12585
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مُدَّةُ أُمَّتِكَ مِنَ الرَّخَاءِ ؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " . فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : " لَقَدْ سَأَلْتَنِي ، عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي ، مُدَّةُ أُمَّتِي مِنَ الرَّخَاءِ مِائَةُ سَنَةٍ " . قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ أَمَارَةٍ أَوْ عَلَامَةٍ أَوْ آيَةٍ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، الْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَإِرْسَالُ الشَّيَاطِينِ الْمُجَلِّبَةِ عَلَى النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سَعْدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

جنادہ بن امیہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی امت کی سہولت مدت کب تک رہے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہیں دیا ، وہ شخص واپس چلا گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ لوگ اسے آپ کے پاس واپس لے کر آئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ایسی چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا ہے کہ جس کے بارے میں مجھ سے کسی نے دریافت نہیں کیا ، میری امت کی سہولت والی مدت ایک سو سال ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا شاید تین مرتبہ یہ بات بیان کی ، تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس کی کوئی نشانی یا علامت یا آیت ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! زمین میں دھنسایا جانا ، زلزلے آنا اور کھینچ لینے والے شیاطین کا لوگوں کی طرف بھیجا جانا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سعد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (325/5)»