مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْخِ وَالْقَذْفِ وَإِرْسَالِ الشَّيَاطِينِ وَالصَّوَاعِقِ باب: مسخ کیے جانے ، پتھر مارے جانے ، شیاطین کو چھوڑے جانے اور بجلیاں گرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12584
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَكْثُرُ الصَّوَاعِقُ عِنْدَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ ، حَتَّى يَأْتِيَ الرَّجُلُ فَيَقُولُ : مَنْ صُعِقَ قِبَلَكُمُ الْغَدَاةَ ؟ فَيَقُولُونَ : صُعِقَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے قریب ہونے کے زمانے میں آسمانی بجلی بہت گرے گی ، یہاں تک کہ کوئی شخص آئے گا اور یہ کہے گا : آج صبح تمہاری طرف کسی شخص پر بجلی گری ہے ، تو وہ جواب دیں گے فلاں اور فلاں پر گری ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے محمد بن مصعب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔