مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْخِ وَالْقَذْفِ وَإِرْسَالِ الشَّيَاطِينِ وَالصَّوَاعِقِ باب: مسخ کیے جانے ، پتھر مارے جانے ، شیاطین کو چھوڑے جانے اور بجلیاں گرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12583
وَعَنْ بُقَيْرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ قَالَتْ : إِنِّي لَجَالِسَةٌ فِي صُفَّةِ النِّسَاءِ ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِذَا سَمِعْتُمْ بِخَسْفٍ هَهُنَا ، فَقَدْ أَطَلَّتِ السَّاعَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں خواتین والے چبوترے پر بیٹھی ہوئی تھی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبے کے دوران اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! جب تم سنو کہ یہاں زمین میں دھنسایا گیا ہے ، تو اس کا مطلب ہو گا قیامت آنے والی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ، امام أحمد کی مختلف اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔