مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْخِ وَالْقَذْفِ وَإِرْسَالِ الشَّيَاطِينِ وَالصَّوَاعِقِ باب: مسخ کیے جانے ، پتھر مارے جانے ، شیاطین کو چھوڑے جانے اور بجلیاں گرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12582
عَنْ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ ، فَيُقَالُ : مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ؟ " . قَالَ : فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ : " قَبَائِلَ " أَنَّهَا الْعَرَبُ ; لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا صحار عبدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مختلف قبائل کو زمین میں دھنسا نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ یہ کہا: جائے گا : بنو فلاں میں سے کون بچا ہے ؟ “ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ قبائل استعمال کیا تو اس سے مجھے پتہ چل گیا کہ اس سے مراد عرب ہیں کیونکہ عجمی لوگ تو اپنی بستیوں کے حوالے سے منسوب ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔