حدیث نمبر: 12568
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُوشِكُ الْمَسِيحُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ أَنْ يَنْزِلَ حَكَمًا مُقْسِطًا وَإِمَامًا عَدْلًا ، فَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَتَكُونُ الدَّعْوَةُ وَاحِدَةً ، فَاقْرِئُوهُ - أَوْ أَقْرِئْهُ - السَّلَامَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُحَدِّثُهُ فَيُصَدِّقُنِي " . فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ : " أَقْرِئُوهُ مِنِّي السَّلَامَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب سیدنا مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام انصاف کرنے والے حکمران اور عادل امام ہونے کے طور پر نازل ہوں گے ، وہ خنزیر کو مار دیں گے ، صلیب کو توڑ دیں گے ، اس وقت دعوت ایک ہی ہو گی ، تم انہیں اللہ کے رسول کی طرف سے سلام کہنا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) میں ان کے ساتھ بات چیت کروں گا ، تو وہ میری بات کی تصدیق کریں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے فرمایا : انہیں میری طرف سے سلام پہنچا دینا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6584) اخرجه احمد فى المسند (394/2)»