حدیث نمبر: 12567
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : مَا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ فَقَالَ : " مَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ لَيْسَ بِضَارِّكَ " . قُلْتُ : أَلَا أَقْتُلُ ابْنَ صَيَّادٍ ؟ قَالَ : " مَا تَصْنَعُ بِقَتْلِهِ ؟ إِنْ كَانَ هُوَ الدَّجَّالُ فَلَنْ تَخْلُصَ إِلَى قَتْلِهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الدَّجَّالُ فَمَا تَصْنَعُ بِهِ ؟ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ قِصَّةِ قَتْلِ ابْنِ صَيَّادٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ جَهْوَرِ بْنِ مَنْصُورٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے دریافت کیا ہے : اس سے زیادہ کسی اور نے دریافت نہیں کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کا کیا کرو گے ، وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا پائے گا ، میں نے عرض کی : کیا میں ابن صیاد کو قتل نہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے قتل کر کے کیا کرو گے ، اگر تو وہ دجال ہوا تو تم اسے قتل نہیں کر پاؤ گے ، اور اگر وہ دجال نہ ہوا تو پھر تم اس کا کیا کرو گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔ اس میں ابن صیاد کے قتل والا واقعہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جہور بن منصور کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (399/20)»