مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنِ صَيَّادٍ باب: ابن صیاد کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَّأَ لِابْنِ الصَّيَّادِ دُخَّانًا ، فَسَأَلَهُ عَمَّا خَبَّأَ لَهُ ، فَقَالَ : دُخُّ . فَقَالَ : " اخْسَأْ ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " . فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا قَالَ ؟ " . قَالَ بَعْضُهُمْ : وَخُّ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ قَالَ : دُخُّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدِ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، فَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلَافًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کے لئے ایک چیز دل میں سوچی اور اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا : جو آپ نے اس کے بارے میں سوچی تھی ، تو اس نے کہا: دخ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ تم اپنی اوقات سے آگے نہیں جا سکو گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس نے کیا کہا: تھا ؟ کسی نے کہا: اس نے وخ کہا: تھا ، کسی نے کہا: بلکہ دخ کہا: تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارے درمیان موجود ہوں اور پھر بھی تم اختلاف کا شکار ہو گئے ، تو میرے بعد تو تم لوگ زیادہ شدید اختلاف کا شکار ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔