حدیث نمبر: 12565
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَأَنْ أَحْلِفَ بِاللَّهِ تِسْعًا أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ هُوَ الدَّجَّالُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ . وَلَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُتِلَ شَهِيدًا ، أَحَبُّ لِي مِنْ أَنْ أَحْلِفَ أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ ; وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا ، وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نو مرتبہ اللہ کے نام کا حلف اٹھاؤں اس بات پر کہ ابن صیاد ہی دجال ہے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے ، اور میں نو مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید ہونے کے طور پر قتل کیا گیا ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل نہیں کیا گیا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بھی بنایا تھا اور آپ کو شہادت کے مرتبے پر بھی فائز کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5207) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10119)»