مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنِ صَيَّادٍ باب: ابن صیاد کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَسُئِلَ : هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قِيلَ : فَهَلْ كَلَّمْتَهُ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، حَتَّى أَتَى دَارًا قَوْرَاءَ ، فَقَالَ : " افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ " . فَفُتِحَ ، وَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلْتُ مَعَهُ ، فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسَطِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " ارْفَعُوا هَذِهِ الْقَطِيفَةَ " . فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ ، فَقَالَ : " قُمْ يَا غُلَامُ " . فَقَامَ الْغُلَامُ ، فَقَالَ : " يَا غُلَامُ ، أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " . قَالَ الْغُلَامُ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا " . مَرَّتَيْنِ .سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ان سے دریافت کیا گیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ فلاں فلاں جگہ سے تشریف لے جا رہے تھے ، آپ کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے اور آپ کے کچھ اصحاب تھے ، یہاں تک کہ آپ کشادہ گھر میں آئے ، آپ نے فرمایا : تم لوگ یہ دروازہ کھولو ، دروازہ کھولا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے ، آپ کے ساتھ میں بھی داخل ہوا ، وہاں گھر کے درمیان میں ایک چادر پڑی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس چادر کو اٹھاؤ ، لوگوں نے چادر کو اٹھایا تو اس کے نیچے ایک کانا لڑکا تھا ، جو اس چادر کے نیچے موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لڑکے اٹھ جاؤ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لڑکے کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس لڑکے نے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ ارشاد فرمایا : تم لوگ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہدی بن عمران ہے امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ۔