مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنِ صَيَّادٍ باب: ابن صیاد کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ . ¤سیدنا زید بن حارثہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اصحاب سے فرمایا چلو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب تھے ، یہاں تک کہ یہ لوگ ایک طویل راستے میں دو باغوں کے درمیان جگہ پر داخل ہوئے ، جب یہ لوگ گھر تک پہنچے تو وہاں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک بڑا مشکیزہ تھا جو پانی سے بھرا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں مشکیزہ دیکھ رہا ہوں لیکن مجھے اس کا اٹھانے والا نظر نہیں آ رہا ، تو اس عورت نے گھر کے کونے میں موجود ایک چادر کی طرف اشارہ کیا ، وہ لوگ اٹھ کر اس چادر کی طرف گئے ، انہوں نے اس چادر کو ہٹایا تو اس کے نیچے ایک انسان موجود تھا ، اس نے اپنا سر اٹھایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چہرے قبیح ہو جائیں ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ میرے بارے میں کیوں سختی سے بات کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہارے لئے ایک چیز سوچی ہے ، تم مجھے بتاؤ کہ وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے سورت دخان سوچی تھی ، تو اس نے کہا: دخ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ، اللہ تعالیٰ نے جو چاہا وہ ہو کے رہے گا ، پھر آپ تشریف لے گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن حسن بن فرات ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اُسے ثقہ کہا: ہے ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ : " انْطَلِقْ " . فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ ، حَتَّى دَخَلُوا بَيْنَ حَائِطَيْنِ فِي زُقَاقٍ طَوِيلٍ ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى الدَّارِ إِذَا امْرَأَةٌ قَاعِدَةٌ ، وَإِذَا قِرْبَةٌ صَغِيرَةٌ مَلْأَى مَاءً ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَى قِرْبَةً ، وَلَا أَرَى حَامِلَهَا " . فَأَشَارَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى قَطِيفَةٍ فِي نَاحِيَةِ الدَّارِ ، فَقَامُوا إِلَى الْقَطِيفَةِ فَكَشَفُوهَا ، فَإِذَا تَحْتَهَا إِنْسَانٌ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ " . فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لِمَ تُفْحِشُ عَلَيَّ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً ، فَأَخْبِرْنِي مَا هُوَ ؟ " . وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ خَبَّأَ لَهُ سُورَةَ الدُّخَانِ ، فَقَالَ : الدُّخُّ . فَقَالَ : " اخْسِ ، مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ " . ثُمَّ انْصَرَفَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ سے فرمایا : ” چلو ! “ ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ساتھ چل پڑے ، یہاں تک کہ وہ ایک طویل گلی میں دو دیواروں (باغوں) کے درمیان داخل ہوئے ۔ جب وہ ایک مکان کے پاس پہنچے تو وہاں ایک عورت بیٹھی تھی اور پانی سے بھری ہوئی ایک چھوٹی مشک رکھی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” مجھے مشک تو نظر آ رہی ہے لیکن اسے اٹھانے والا (لانے والا) نظر نہیں آ رہا “ ۔ اس عورت نے گھر کے ایک کونے میں رکھی چادر (یا کمبل) کی طرف اشارہ کیا ۔ صحابہ نے جا کر وہ چادر ہٹائی تو اس کے نیچے ایک انسان (ابنِ صیاد) تھا ، اس نے اپنا سر اٹھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” چہرے بگڑ جائیں (تم پر لعنت ہو) “ ۔ اس نے کہا: اے محمد ! آپ مجھے برا بھلا کیوں کہہ رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے اپنے دل میں (امتحان کے لیے ) تیرے سامنے ایک بات چھپائی ہے ، مجھے بتاؤ وہ کیا ہے ؟ “ - اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے سورۃ الدخان (کا تصور یا آیت) چھپا رکھی تھی - تو اس نے (ادھورا لفظ) کہا: ” دُخ “ (یعنی دھواں) ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” ذلیل و خوار پڑا رہ ! جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے “۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس لوٹ آئے ۔
اسے امام بزار رحمہ اللہ نے اور امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الکبیر اور المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں زیاد بن حسن بن فرات نامی راوی ہے ، جسے امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے ۔