مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي ابْنِ صَيَّادٍ باب: ابن صیاد کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ ، طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ ، فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِ . فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ . ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ صَيَّادٍ مَا تَرَى ؟ " . قَالَ : أَرَى حَقًّا ، وَأَرَى بَاطِلًا ، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، فَلُبِّسَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . فَقَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ ، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ " . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا ، فَيَعْلَمُ أَهُوَ هُوَ أَمْ لَا ، قَالَ : " يَا ابْنَ صَيَّادٍ مَا تَرَى ؟ " . قَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . فَلُبِّسَ عَلَيْهِ ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُ . ¤ ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ ، قَالَ : فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَيْدِينَا ، رَجَاءَ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا ، فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبُيِّنَ " . فَقَالَ : " يَا ابْنَ صَيَّادٍ ، مَا تَرَى ؟ " . فَقَالَ : أَرَى حَقًّا ، وَأَرَى بَاطِلًا ، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . فَلُبِّسَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ صَيَّادٍ ، إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا ، فَقَالَ : هُوَ الدُّخُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْسَأْ ، اخْسَأْ " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ ، وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ " . قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَيْقِنًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہودیوں کی ایک عورت نے مدینہ منورہ میں ایک بچے جو جنم دیا جس کی ایک آنکھ خراب تھی ، وہ باہر کی طرف ابھری ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو ، ایک مرتبہ آپ نے اس لڑکے کو چادر کے نیچے پایا ، اس بچے کی ماں نے اسے اطلاع دیدی اور بولی: اے اللہ کے بندے ! یہ سیدنا ابوالقاسم تشریف لائے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف بڑھے تو وہ چادر میں سے نکل آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ، اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، اگر یہ اس کو رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ، اس نے کہا: میں ایک حق چیز دیکھتا ہوں اور ایک باطل چیز دیکھتا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں ، تو یہ معاملہ اس کے لئے الجھن کا باعث بن گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے دریافت کیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ اور اس کے ( حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ نے اسے چھوڑ دیا ۔ پھر آپ دوسری مرتبہ اس کے پاس آئے ، تو آپ نے اس کو پایا کہ وہ کھجوروں کے باغ میں موجود تھا ، آپ نے اس کی طرف جانے کا قصد کیا ، لیکن اس کی ماں نے اسے بتا دیا اور بولی: اے اللہ کے بندے ! یہ ابوالقاسم تشریف لے آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے اگر یہ اسے رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ اس کے کلام میں سے کوئی بات سن لیں اور آپ کو پتا چل جائے کہ کیا یہ وہی ہے یا نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ، اس ( ابن صیاد ) نے یہ دریافت کیا : کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ اور اس کے ( سچے اور حقیقی ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو یہ معاملہ آپ کے لئے الجھن کا باعث بن گیا آپ نے اسے چھوڑا اور تشریف لے گئے ۔ پھر جب تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ تشریف لائے ، تو آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے اور مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ اور افراد تھے ، میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے آگے جلدی چلے گئے ، آپ کو یہ توقع تھی کہ آپ اس کے کلام میں سے کوئی بات سن لیں گے ، لیکن آپ سے پہلے اس کی ماں نے اسے کہا: اے اللہ کے بندے ! یہ سیدنا ابوالقاسم تشریف لے آئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس عورت کو کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، اگر یہ اسے ایسے ہی رہنے دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن صیاد تم کیا دیکھتے ہو ؟ اس نے کہا: میں ایک حق چیز دیکھتا ہوں اور ایک باطل دیکھتا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے ( حقیقی اور سچے ) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں ، یہ معاملہ آپ کے لئے الجھن کا باعث بن گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن صیاد ! میں نے تمہارے لئے ایک بات سوچی ہے ۔ اس نے کہا: وہ دخ ( یعنی دھواں ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے ( کہ میں اسے قتل کر دوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تو یہ وہی ہوا ، تو پھر میں اس کا متعلقہ فرد نہیں ہوں ، کیونکہ اس کے متعلقہ فرد سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے اور اگر یہ وہ ( یعنی دجال ) نہیں ہے ، تو تمہیں اس بات کا حق نہیں ہے کہ تم ذمیوں سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو قتل کرو ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل پریقین رہے کہ وہی دجال ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔