حدیث نمبر: 12559
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : لَأَنْ أَحْلِفَ عَشْرَ مَرَّاتٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ هُوَ الدَّجَّالُ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ مَرَّةً وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ . قَالَ : وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَنِي إِلَى أُمِّهِ فَقَالَ : " سَلْهَا كَمْ حَمَلَتْ بِهِ ؟ " . قَالَ : فَأَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : حَمَلْتُ بِهِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا . قَالَ : ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهَا فَقَالَ : " سَلْهَا ، عَنْ صَيْحَتِهِ حِينَ وَقَعَ " . قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا ، فَقَالَتْ : صَاحَ صِيَاحَ الصَّبِيِّ ابْنِ شَهْرٍ . ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً ، قَالَ : خَبَّأْتَ لِي خَطْمَ شَاةٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ " . قَالَ : فَأَرَادَ أَنْ يَقُولَ الدُّخَانَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ ، فَقَالَ : الدُّخْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْسَأْ ، فَإِنَّكَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : " إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبْأً فَمَا هُوَ ؟ " . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں دس مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ ابن صیاد ہی دجال ہے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں ایک مرتبہ یہ حلف اٹھاؤں کہ وہ دجال نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے اس کی ماں کی طرف بھیجا اور فرمایا : تم اس عورت سے پوچھو کہ اسے کتنا عرصہ اس کا حمل رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں اس عورت کے پاس آیا ، میں نے اس سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو اس عورت نے بتایا : مجھے بارہ مہینے تک اس کا حمل رہا تھا ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مجھے اس عورت کی طرف بھیجا اور فرمایا : تم اس عورت سے دریافت کرنا کہ جب یہ پیدا ہوا تھا تو یہ چیخا کس طرح سے تھا ، راوی کہتے ہیں : میں دوبارہ اس کے پاس گیا ، میں نے اس عورت سے دریافت کیا ، تو اس نے بتایا : یہ یوں ( بلند آواز میں ) چیخا تھا جیسے ایک ماہ کا بچہ چیختا ہے ۔ سیدنا ابوزر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر بعد میں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے دریافت کیا : میں نے تمہارے لئے ایک بات دل میں سوچی ہے ۔ اس نے کہا: آپ نے مٹیالی بکری کی رسی اور دھویں کے بارے میں سوچا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اس نے دھویں کے لئے لفظ دخان کہنا چاہا لیکن وہ نہیں کہہ سکا ، لیکن اس نے صرف ” دخ “ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پرے ہو جاؤ ! تم اپنی اوقات سے آگے نہیں جا سکو گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہارے لئے ایک چیز سوچی ہے ، وہ کیا ہے ؟ امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن جبیرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12559
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3400) اخرجه احمد فى المسند (148/5)»