مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا ، وَرَأَيْتُ مَسِيحَ الضَّلَالَةِ ، فَإِذَا رَجُلَانِ فِي أَنْدَرِ فُلَانٍ يَتَلَاحَيَانِ فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهَا ، فَاطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَرَجُلٌ أَجْلَى الْجَبْهَةِ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى ، عَرِيضُ النَّحْرِ كَأَنَّهُ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ . ¤سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر وہ مجھے بھلا دی گئی ہے ، میں نے دجال کو دیکھا ، پھر دو آدمی فلاں جگہ پر لڑائی کر رہے تھے ، میں ان دونوں کے درمیان لڑائی ختم کروانے لگا ، اسی دوران وہ چیز مجھے بھلا دی گئی ، تو تم شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو ، جہاں تک دجال کا تعلق ہے ، تو وہ ایک ایسا شخص ہے ، جس کی پیشانی روشن ہو گی ( یعنی اس کے آگے کے بال اڑے ہوئے ہوں گے ) اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی ، اس کی گردن چوڑی ہو گی ، وہ عبدالعزیٰ بن قطن سے مشابہت رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث گزر چکی ہے ، جو اس کی مانند ہے ۔