حدیث نمبر: 12535
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ : " أُحَذِّرُكُمُ الْمَسِيحَ وَأُنْذِرُكُمُوهُ ، وَكُلُّ نَبِيٍّ قَدْ حَذَّرَهُ قَوْمَهُ ، وَهُوَ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ ، وَسَأَحْكِي لَكُمْ مِنْ نَعْتِهِ مَا لَمْ تَحْكِ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلِي لِقَوْمِهِمْ ، يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِهِ سُنُونَ خَمْسٌ جُدْبٌ حَتَّى يَهْلِكَ كُلُّ ذِي حَافِرٍ " . فَنَادَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَبِمَ يَعِيشُ الْمُؤْمِنُونَ ؟ قَالَ : " بِمَا يَعِيشُ بِهِ الْمَلَائِكَةُ . وَهُوَ أَعْوَرُ ، وَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْوَرَ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ ، أَكْثَرُ مَنْ يَتَّبِعُهُ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ وَالْأَعْرَابُ ، تَرَوْنَ السَّمَاءَ تُمْطِرُ وَهِيَ لَا تُمْطِرُ وَالْأَرْضَ تُنْبِتُ وَهِيَ لَا تُنْبِتُ ، وَيَقُولُ لِلْأَعْرَابِ : مَا تَبْغُونَ مِنِّي ؟ أَلَمْ أُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَأُحْيِي لَكُمْ أَنْعَامَكُمْ شَاخِصَةً ذُرَاهَا خَارِجَةً خَوَاصِرُهَا دَارَّةً أَلْبَانُهَا ؟ وَتُبْعَثُ مَعَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ مَنْ مَاتَ مِنَ الْآبَاءِ وَالْإِخْوَانِ وَالْمَعَارِفِ ، فَيَأْتِي أَحَدُهُمْ إِلَى أَبِيهِ وَأَخِيهِ وَذِي رَحِمِهِ فَيَقُولُ : أَلَسْتَ فُلَانًا ؟ أَلَسْتَ تَعْرِفُنِي ؟ هُوَ رَبُّكَ فَاتَّبِعْهُ ، يُعَمَّرُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، السَّنَةُ كَالشَّهْرِ ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ ، وَالْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ ، وَالسَّاعَةُ كَاحْتِرَاقِ السَّعْفَةِ فِي النَّارِ ، يَرِدُ كُلَّ مَنْهَلٍ إِلَّا الْمَسْجِدَيْنِ " . ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ فَسَمِعَ بُكَاءَ النَّاسِ وَشَهِيقَهُمْ ، فَرَجَعَ فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَالَ : " أَبْشِرُوا ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَاللَّهُ كَافِيكُمْ وَرَسُولُهُ ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَلَا يَحْتَمِلُ مُخَالَفَتَهُ لِلْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ إِنَّهُ يَلْبَثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَفِي هَذَا أَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اصحاب کے درمیان یہ ارشاد فرماتے ہوے سنا : ” میں تمہیں دجال سے بچنے کی تلقین کر رہا ہوں اور تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں ، ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ، اور اے امت وہ تمہارے درمیان رونما ہو گا ، اور میں تمہارے سامنے اس کے حلیے میں سے ایک ایسی چیز بیان کر دوں گا ، جو دیگر انبیاء نے اپنی اقوام کے سامنے بیان نہیں کی ، اس کے نکلنے سے پہلے خشک سالی کے پانچ سال ہوں گے ، یہاں تک کہ ہر جانور مر جائے گا ، ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! تو مومنین کیسے زندہ رہیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چیز ( یعنی ذکر اذکار ) کے ذریعے ، جس کے ذریعے فرشتے زندہ رہتے ہیں ، دجال کانا ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ، دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ؟ جسے ہر مومن پڑھ سکے گا ، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا پڑھا لکھا نہ ہو ، دجال کے پیروکاروں میں اکثریت یہودیوں عیسائیوں اور دیہاتیوں کی ہو گی ، تم لوگ آسمان کو دیکھو گے کہ وہ بارش نازل کر رہا ہے ، حالانکہ بارش نازل نہیں ہو رہی ہو گی ، تم زمین کو دیکھو گے کہ وہ نباتات اگا رہی ہے ، حالانکہ وہ نباتات نہیں اگا رہی ہو گی ، دجال دیہاتیوں سے کہے گا : تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟ کیا میں نے تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش نازل نہیں کی ہے ؟ کیا میں نے تمہارے لے تمہارے جانوروں کو زندہ نہیں کر دیا کہ وہ صحت مند ہو چکے ہیں اور ان کے دودھ زیادہ ہو چکے ہیں ؟ پھر دجال کے ساتھ کچھ شیاطین کو بھیجا جائے گا ، جو لوگوں کے مرے ہوئے آباؤ اجداد ، بھائیوں اور رشتے داروں کی شکل و صورت والے ہوں گے ، لوگوں میں سے کوئی ایک شخص رشتہ دار کے پاس آئے گا ، اور کہے گا : کیا تم فلاں نہیں ہو ، کیا تم مجھے پہچانتے نہیں ہو ؟ یہ تمہارا پروردگار ہے ، تم اس کی پیروی کرو ، دجال چالیس دن تک رہے گا جس میں ایک سال مہینے کی مانند ہو گا ، اور مہینہ ہفتے کی مانند ہو گا ، اور ہفتہ دن کی مانند ہو گا ، اور دن گھڑی کی مانند ہو گا ، اور گھڑی آگ میں جلنے کے دھبے کی مانند ہو گی ، وہ ہر جگہ تک پہنچ جائے گا ، صرف دو مسجدوں تک نہیں پہنچے گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ وضو کرنے لگے ، آپ نے لوگوں کی چیخ و پکار کی آواز سنی ، آپ واپس تشریف لائے اور لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ خوشخبری حاصل کرو کہ اگر وہ نکلا اور اس وقت میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو اللہ اور اس کا رسول تمہارے لئے کفایت کرنے والے ہوں گے ، اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو میرے بعد ہر مسلمان کا اللہ تعالیٰ نگہبان ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کا صحیح احادیث کے برخلاف نقل کرنا معتبر نہیں ہو گا ، کیونکہ اُن میں یہ مذکور ہے کہ وہ زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، اور اس میں یہ مذکور ہے کہ یہ چالیس سال تک رہے گا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (169/24)»