حدیث نمبر: 12534
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِي هَذِهِ السَّبْخَةِ بِمَرِّ قَنَاةَ ، فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْجِعُ إِلَى حَمِيمِهِ وَإِلَى أُمِّهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ وَعَمَّتِهِ فَيُوثِقُهَا رِبَاطًا مَخَافَةَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ يُسَلِّطُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ فَيَقْتُلُونَهُ وَيَقْتُلُونَ شِيعَتَهُ ، حَتَّى إِنَّ الْيَهُودِيَّ لَيَخْتَبِئُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَوِ الْحَجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرَةُ لِلْمُسْلِمِ : هَذَا يَهُودِيٌّ تَحْتِي فَاقْتُلْهُ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال مرقناة “ کے مقام پر اس شوریدہ زمین پر پڑاؤ کرے گا ، اس کے پاس نکل کر جانے والوں میں اکثریت عورتوں کی ہو گی ، یہاں تک کہ ایک شخص اپنے قریبی شخص یا اپنی ماں یا اپنی بیٹی یا اپنی پھوپھی کے پاس آئے گا ، اور اسے باندھ دے گا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ نکل کر اس ( دجال ) کے پاس نہ چلی جائے ، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر غلبہ عطا کرے گا ، اور مسلمان اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیں گے ، یہاں تک کہ کوئی یہودی کسی درخت کے یا پتھر کے پیچھے چھپے گا ، تو وہ پتھر یا درخت ، مسلمان سے کہیں گے : یہ یہودی میرے پیچھے موجود ہے ، تم اسے قتل کر دو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12534
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13197) اخرجه احمد فى المسند (5353)»