مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12536
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَخَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ أَوْ أَكْثَرَ ، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْهُمْ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ ، وَإِنَّهُ قَدْ يَتَبَيَّنْ لِي مَا لَمْ يَتَبَيَّنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَفِيهِ تَوْثِيقٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ایک ہزار ( راوی کو شک ہے ) اس سے زیادہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میرے سامنے ایک ایسی چیز واضح ہوئی ہے ، جو ان انبیاء میں سے کسی کے سامنے واضح نہیں ہوئی ، دجال کانا ہو گا اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔