حدیث نمبر: 12533
وَعَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ : هَلْ تُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ ؟ فَقُلْتُ لَا ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ أَوْ أَكْثَرَ ، مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي فِي أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ ، وَإِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ لَا تَخْفَى كَأَنَّهَا نُخَاعَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ ، وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ ، وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تُدَاخِّنُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ وَقَالَ فِي أُخْرَى : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

ابووداک بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم لوگ خوارج کو دجال قرار دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں ایک ہزار یا اس سے زیادہ ( یہ شک راوی کو ہے ) انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں ، جس بھی نبی کو پیدا کیا گیا ، جس کی پیروی کی گئی ، تو اس ( نبی ) نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میرے لئے اس کے حوالے سے ایک ایسی چیز کو واضح کیا گیا ہے ، جو کسی اور نبی کے لئے واضح نہیں کی گئی ، وہ ( یعنی دجال ) کانا ہو گا اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ اس کی دائیں آنکھ کانی ہو گی اور وہ ابھری ہوئی ہو گی جو چھپے گی نہیں ، وہ دیوار پر موجود بلغم کی طرح ہو گی ۔ اس کی بائیں آنکھ یوں ہو گی جیسے چمکتا ہوا ستارہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہر زبان ہو گی ( یعنی ہر زبان کے ماننے والے ہوں گے یا اسے ہر زبان آتی ہو گی ) اس کے ساتھ جنت کی شکل کی چیز ہو گی جو سرسبز ہو گی ، جس میں پانی چل رہا ہو گا ، اور جہنم کی شکل کی چیز ہو گی جو سیاہ ہو گی ، جس میں دھواں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ قومی نہیں ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12533
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (79/3)»