مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي لَمْ أَجْمَعْكُمْ لِخَبَرٍ جَاءَ مِنَ السَّمَاءِ " . فَذَكَرَ حَدِيثَ الْجَسَّاسَةِ وَزَادَ فِيهِ " هُوَ الْمَسِيحُ تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ طَيْبَةَ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَطَيْبَةُ الْمَدِينَةُ ، مَا بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ مُصْلِتٌ سَيْفَهُ يَمْنَعُهُ ، وَبِمَكَّةَ مِثْلُ ذَلِكَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! میں نے تمہیں اس لئے جمع نہیں کیا کہ آسمان سے کوئی خبر آئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے جساسہ والی روایت ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کے : ” وہ دجال ہو گا جس کے لئے زمین کو لپیٹ دیا جائے گا ، وہ چالیس دن میں ( پوری زمین کا چکر لگا لے گا ) البتہ وہ طیبہ میں نہیں آ سکے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے ۔ اس کے ہر دروازے پر فرشتہ تلوار سونت کر کھڑا ہوا ہو گا ، جو اسے ( یعنی دجال کو ) اندر داخل ہونے نہیں دے گا ، اور مکہ میں بھی اسی طرح ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔