مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ ، فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَقَالَ : " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِعَبْدٍ قَدْ سُخِّرَتْ لَهُ أَنْهَارُ الْأَرْضِ وَثِمَارُهَا ؟ فَمَنِ اتَّبَعَهُ أَطْعَمَهُ وَأَكْفَرَهُ ، وَمَنْ عَصَاهُ حَرَمَهُ وَمَنَعَهُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْجَارِيَةَ لَتَجْلِسُ عِنْدَ التَّنُّورِ سَاعَةً لِخُبْزِهَا فَأَكَادُ أَفْتَتِنُ فِي صَلَاتِي ، فَكَيْفَ بِنَا إِذَا كَانَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَعْصِمُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ بِمَا عَصَمَ بِهِ الْمَلَائِكَةَ مِنَ التَّسْبِيحِ ، إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں ان کے ہاں تشریف لائے ، پھر آپ تشریف لے گئے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فاقہ کشی کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب تمہیں ایک ایسے بندے کے حوالے سے آزمائش میں مبتلاء کیا جائے گا کہ جس کے لئے زمین کی نہریں اور زمین کے پھل مسخر کر دیے جائیں گے ، جو شخص اس کی پیروی کرے گا وہ اسے کھانے کے لئے دے گا ، اور جو شخص اس کی نافرمانی کرے گا ، وہ اسے محروم رکھے گا اور روک دے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کنیز تنور کے پاس گھڑی بھر کے لئے بیٹھتی ہے ، تاکہ روٹی لگائے ، تو اسی دوران ( بھوک کی شدت کی وجہ سے ) میں اپنی نماز کے حوالے سے آزمائش کا شکار ہو جاتی ہوں ، تو جب اس طرح کی صورت حال ہو گی ، اس وقت ہمارا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس چیز کے حوالے سے بچا لے گا ، جس کے حوالے سے فرشتے بچے ہوئے ہیں ، اور وہ تسبیح ہے ، دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا ، خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا پڑھا لکھا نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔