مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَمَسِيحُ الضَّلَالَةِ ، فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ ، فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهَا ، وَسَأَشْدُو لَكُمْ مِنْهَا ، أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ ، عَرِيضُ النَّحْرِ ، فِيهِ دَفَأٌ كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ ؟ قَالَ : " لَا ، أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ . ¤ان کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نکل کر تمہارے پاس آیا ، مجھے لیلۃ القدر کے بارے میں اور گمراہی والے دجال کے بارے میں بتایا گیا تھا ، تو مسجد کے دروازے کے پاس دو آدمی جھگڑا کر رہے تھے ، میں ان دونوں کے پاس آیا تاکہ ان کا جھگڑا ختم کروں ، تو مجھے یہ دونوں چیزیں بھلا دی گئیں ، البتہ میں ان میں سے تھوڑی سی چیز تمہارے سامنے ذکر کرتا ہوں ، جہاں تک شب قدر کا تعلق ہے ، تو تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور جہاں تک دجال کا تعلق ہے ، تو وہ کانا ہو گا اس کا ماتھا صاف ہو گا ( یعنی اس کے آگے کے بال نہیں ہوں گے ) اس کی پیشانی چوڑی ہو گی ، اس میں آگے کی طرف جھکنا ہو گا ، وہ قطن بن عبدالعزیٰ سے مشابہت رکھتا ہو گا ، اُن صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے ساتھ مشابہت رکھنا کیا مجھے نقصان پہنچائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ، تم ایک مسلمان شخص ہو اور وہ کافر شخص ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں آگے چل کے سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت آئے گی ۔