حدیث نمبر: 12526
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ [ سَنَةً ] : تَمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا ، وَالثَّانِيَةَ تَمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا ، وَالثَّالِثَةَ تَمْسِكُ السَّمَاءَ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ ، وَلَا تَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَتْ ، وَإِنَّ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنْ يَأْتِيَ الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ ؟ " . قَالَ : " فَيَقُولُ : بَلَى . فَتُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا تَكُونُ ضُرُوعُهَا وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً " . قَالَ : " وَيَأْتِي الرَّجُلُ قَدْ مَاتَ أَبُوهُ وَمَاتَ أَخُوهُ ، فَيَقُولُ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَحْيَيْتُ لَكَ أَخَاكَ ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : بَلَى . فَتُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ " . ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَةٍ لَهُ ، ثُمَّ رَجَعَ . قَالَتْ : وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ . قَالَتْ : فَأَخَذَ بِلُحْمَتَيِ الْبَابِ ، وَقَالَ : " مَهْيَمْ أَسْمَاءُ " . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ . قَالَ : " إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ ، وَإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ " . قَالَتْ أَسْمَاءُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجْنَتَنَا فَمَا نَخْبِزُهَا حَتَّى نَجُوعَ ، فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " يُجْزِيُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ " ¤
محمد محی الدین

سیده اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” قیامت سے پہلے تین سال قحط سالی کے ہوں گے ، ان کے دوران ( پہلے سال میں ) آسمان اپنی بارش کے ایک تہائی حصے کو روک لے گا ، زمین اپنی پیداوار کے ایک تہائی حصے کو روک لے گی ، پھر دوسری مرتبہ آسمان اپنی بارش کے دو تہائی حصے کو روک لے گا اور زمین اپنی پیداوار کے دو تہائی حصے کو روک لے گی اور تیسری مرتبہ آسمان اپنی پوری بارش کو روک لے گا ، اور زمین اپنی پوری پیداوار کو روک لے گی ، اس وقت کوئی کھروں والا یا دانتوں والا جانور باقی نہیں رہے گا ، وہ ( سب ) ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، اور اس کے فتنے میں سب سے زیادہ سخت یہ بات ہو گی کہ وہ کسی دیہاتی کے پاس آ کر کہے گا : تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر میں تمہارے اونٹ کو تمہارے لئے زندہ کر دوں ، تو کیا تم یہ بات نہیں جان لو گے کہ میں تمہارا پروردگار ہوں ، تو وہ دیہاتی کہے گا : جی ہاں ، تو شیاطین اس شخص کے سامنے اس کے اونٹ کی مانند بن کے آ جائیں گے ، جس کے تھن پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے اور جس کی کوہان پہلے سے زیادہ بڑی ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ایک شخص آئے گا جس کا باپ یا بھائی انتقال کر چکے ہوں گے ، تو دجال کہے گا : اگر میں تمہارے باپ کو تمہارے لئے زندہ کر دوں یا تمہارے بھائی کو تمہارے لئے زندہ کر دوں ، تو کیا تم یہ بات نہیں جان لو گے کہ میں تمہارا پروردگار ہوں ، وہ شخص جواب دے گا : جی ہاں ۔ تو وہ شیاطین اس کے سامنے اس کے باپ کی مانند یا اس کے بھائی کے مانند بن کے آ جائیں گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے ، جب آپ واپس تشریف لائے ، تو راوی خاتون بیان کرتی ہیں : لوگ پریشانی کا شکار تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جو بات بتائی تھی ، اس کے حوالے سے غمگین تھے ، راوی خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا اور فرمایا : اے اسماء کیا ہوا ہے ، راوی خاتون کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دجال کا ذکر کر کے آپ نے ہمیں پریشان کر دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ نکلا اور میں اس وقت زندہ ہوا تو میں اس کے لئے رکاوٹ بن جاؤں گا ورنہ میرا پروردگار میری جگہ ہر مومن کے لئے کافی ہو گا ۔ “ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! ہم آٹا گوندھتی ہیں ، اور ابھی ہم نے روٹی نہیں پکائی ہوئی ہوتی کہ ہمیں بھوک لگ جاتی ہے ، تو اس وقت مومنین کا کیا عالم ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مومنین کے لئے وہ چیز کفایت کر جائے گی جو آسمان والوں کے لئے کفایت کر جاتی ہے ، جس کا تعلق تسبیح و تقدیس سے ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12526
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (158/24) اخرجه احمد فى المسند (455/6)»