حدیث نمبر: 12525
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنَ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ ، وَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يُسَيِّحُهَا فِي الْأَرْضِ ، الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ، ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ ، وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا ، فَيَقُولُ لِلنَّاسِ : أَنَا رَبُّكُمْ ، وَهُوَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ [ ك ف ر ] مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ ، يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ ، وَقَامَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا ، مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ ، وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنِ تَبَعَهُ ، وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ ، نَهْرٌ يَقُولُ الْجَنَّةُ وَنَهْرٌ يَقُولُ النَّارُ ، فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ ، وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ " . قَالَ : " وَتُبْعَثُ مَعَهُ شَيَاطِينُ تُكَلِّمُ النَّاسَ ، وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ ، يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ ، فَيَقُولُ لِلنَّاسِ : أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ ؟ " . قَالَ : " فَيَفِرُّ النَّاسُ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ فِي الشَّامِ فَيُحَاصِرُهُمْ ، فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا . ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَيُنَادِي مِنَ السَّحَرِ فَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى هَذَا الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ ؟ فَيَقُولُونَ : هَذَا رَجُلٌ جِنِيٌّ ، فَيَنْطَلِقُونَ . فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَيُقَالُ لَهُ : تَقَدَّمْ يَا رَوْحَ اللَّهِ . فَيَقُولُ : لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَيُصَلِّي بِكُمْ ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ خَرَجَ إِلَيْهِ " . قَالَ : " فَحِينَ يَرَاهُ الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ، فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ ، حَتَّى أَنَّ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ يُنَادِي : هَذَا يَهُودِيٌّ ، فَلَا يُتْرَكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا تَبِعَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَلِجَابِرٍ حَدِيثٌ تَقَدَّمَ فِي فَضْلِ الْمَدِينَةِ فِي الْحَجِّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال دین کے کمزور ہونے اور علم کے رخصت ہونے کے وقت نکلے گا ، اس کی چالیس راتیں ہوں گی ، وہ پوری زمین میں گھومے گا ، ان راتوں میں سے ایک دن ایک سال کی مانند ہو گا ، ایک دن ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک دن ایک ہفتے کی مانند ہو گا ، اور باقی کے دن تمہارے عام دنوں کی مانند ہوں گے ، اس کے پاس ایک گدھا ہو گا جس کے دونوں کانوں کے درمیان کی چوڑائی چالیس ذراع ہو گی ، وہ لوگوں سے کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، حالانکہ وہ کانا ہو گا ، اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر یعنی ک ف ر لکھا ہوا ہو گا ، جو ہجوں کی شکل میں ہو گا ، جسے ہر پڑھا لکھا یا غیر پڑھا لکھا مومن پڑھ سکے گا ، وہ ہر پانی اور گھاٹ تک آئے گا ، صرف مدینہ منورہ اور مکہ نہیں آئے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں شہر اس کے لئے حرام قرار دیے ہیں ، ان شہروں کے دروازوں پر فرشتے کھڑے ہوئے ہیں ، دجال کے ساتھ روٹی کے پہاڑ ہوں گے اور لوگ اس وقت فاقہ کشی کا شکار ہوں گے ، البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اس کی پیروی کر رہے ہوں گے ، دجال کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ، میں ان دونوں کے بارے میں دجال سے زیادہ بہتر جانتا ہوں ، ایک نہر جس کے بارے میں وہ یہ کہے گا : یہ جنت ہے اور ایک نہر جس کے بارے میں وہ یہ کہے گا : یہ جہنم ہے ، تو جو شخص اس میں داخل ہو گا ، جسے وہ جنت کا نام دے گا ، تو وہ درحقیقت جہنم ہو گی اور جو شخص اس میں داخل ہو گا ، جسے اس نے جہنم کا نام دیا ہو گا ، تو وہ درحقیقت جنت ہو گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے ساتھ شیاطین کو بھیجا جائے گا ، جو لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں گے ، اور ان کے ساتھ بڑا فتنہ ہو گا ، وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش نازل کرے گا ، جو لوگوں کو نظر آ رہا ہو گا ، پھر وہ لوگوں کو کہے گا : اے لوگو ! کیا یہ کام صرف رب ہی کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ نکل کر شام میں موجود جبل دخان کے پاس جائیں گے وہ ان کا محاصرہ کر لے گا ، ان کا محاصرہ شدید ہو جائے گا ، اور ان لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو جائے گی ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نزول کریں گے ، اور وہ بلند آواز میں پکار کر یہ کہیں گے : اے لوگو ! تمہیں کس چیز نے اس بات سے روکا ہوا ہے کہ تم اس خبیث کذاب کی طرف نکل کے جاؤ تو وہ لوگ کہیں گے : یہ شخص جن ہے ، پھر وہ لوگ جائیں گے ، تو وہاں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے ، پھر نماز کھڑی ہو گی تو ان سے کہا: جائے گا : اے روح اللہ ! آپ آگے آئیں ، تو وہ فرمائیں گے : تمہارے امام کو آگے ہونا چاہیے ، وہ امام تمہیں نماز پڑھائے ، جب وہ صبح کی نماز ادا کر لیں گے تو نکل کر اس کی طرف جائیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کذاب انہیں دیکھے گا تو وہ یوں پگھلنا شروع ہو گا جس طرح نمک پانی میں حل ہو جاتا ہے ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام چلتے ہوئے اس کے پاس جائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے ، یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی پکار کر یہ کہیں گے کہ یہ یہودی ( میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ) تو اس کے پیروکاروں میں سے ہر ایک کو وہ قتل کر دیں گے ۔ یه روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اس سے پہلے کتاب الحج میں مدینہ منورہ کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12525
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (367/3)»