حدیث نمبر: 12527
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ مَجْلِسًا مَرَّةً فَحَدَّثَهُمْ عَنْ أَعْوَرَ الدَّجَّالِ ، وَزَادَ فِيهِ : فَقَالَ : " مَهْيَمْ " . وَكَانَتْ كَلِمَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ يَقُولُ : " مَهْيَمْ " ، وَزَادَ " فَمَنْ حَضَرَ مَجْلِسِي وَسَمِعَ كَلَامِي مِنْكُمْ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - صَحِيحٌ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَأَنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَفِي إِحْدَاهَا " يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِهِ سُنُونَ خَمْسٌ جُدْبٌ " ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوَشْبٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک محفل میں تشریف فرما تھے ، آپ نے کانے دجال کے بارے میں ان لوگوں کو بتایا ، اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میہم ! یہ وہ کلمہ ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ارشاد فرماتے تھے جب کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جاتا تھا تو آپ یہ فرماتے تھے : میہم ! اور اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” تم میں سے جو شخص میری محفل میں موجود ہے ، اور اس نے میرا کلام سنا ہے تو موجود شخص غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دے اور تم لوگ یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ صحیح ہے ۔ وہ کانا نہیں ہے اور دجال کانا ہو گا اس کی ایک آنکھ نہیں ہو گی اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص ( ہر کوئی ) پڑھ سکے گا ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے مختلف طرق سے نقل کی ہیں ۔ اس کے ایک طرق میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے خروج سے پہلے کے پانچ سال قحط سالی کے ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12527
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (456/6)»