حدیث نمبر: 12520
وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ : أَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ لِنَعْرِضَ عَلَيْهِ مُصْحَفًا لَنَا عَلَى مُصْحَفِهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْجُمُعَةُ أَمَرَنَا فَاغْتَسَلْنَا ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِطِيبٍ فَتَطَيَّبْنَا ، ثُمَّ جِئْنَا الْمَسْجِدَ فَجَلَسْنَا . فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ لِلْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةُ أَمْصَارٍ : مِصْرٌ بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ ، وَمِصْرٌ بِالْحَيْرَةِ ، وَمِصْرٌ بِالشَّامِ ، فَيَفْزَعُ النَّاسُ ثَلَاثَ فَزَعَاتٍ ، فَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أَعْرَاضِ النَّاسِ فَيَهْزِمُ مَنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، فَأَوَّلُ مِصْرٍ يَرِدُونَ الْمِصْرَ الَّذِي بِمُلْتَقَى الْبَحْرَيْنِ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ ، فِرْقَةٌ تَبْقَى تَقُولُ : نُشَامُّهُ نَنْظُرُ مَا هُوَ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْأَعْرَابِ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ ، وَمَعَ الدَّجَّالِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ ، فَأَكْثَرُ تَبَعِهِ الْيَهُودُ وَالنِّسَاءُ . ثُمَّ يَأْتِي الْمِصْرَ الَّذِي يَلِيهِمْ فَيَصِيرُ أَهْلُهُ ثَلَاثَ فِرَقٍ ، فِرْقَةٌ تَقُولُ : نُشَامُّهُ نَنْظُرُ مَا هُوَ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْأَعْرَابِ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِالْمِصْرِ الَّذِي يَلِيهِمْ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ ، وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَقَبَةِ أَفِيقَ فَيَبْعَثُونَ سَرْحًا لَهُمْ ، فَيُصَابُ سَرْحُهُمْ فَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، وَتُصِيبُهُمْ مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ شَدِيدٌ ، حَتَّى أَنَّ أَحَدَهُمْ لَيَخْرِقُ وَتَرَ قَوْسِهِ فَيَأْكُلُهُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّحَرِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَتَاكُمُ الْغَوْثُ ، ثَلَاثًا ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ رَجُلٍ شَبْعَانَ . وَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَيَقُولُ لَهُ أَمِيرُهُمْ : يَا رَوْحَ اللَّهِ ، تَقَدَّمْ فَصَلِّ . فَيَقُولُ : هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ . فَيَتَقَدَّمُ أَمِيرُهُمْ فَيُصَلِّي ، فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَخَذَ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - حَرْبَتَهُ فَيَذْهَبُ نَحْوَ الدَّجَّالِ ، فَإِذَا رَآهُ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرُّصَاصُ ، فَيَضَعُ حَرْبَتَهُ بَيْنَ ثَنْدُوَتَيْهِ فَيَقْتُلُهُ ، وَيَنْهَزِمُ أَصْحَابُهُ ، فَلَيْسَ شَيْءٌ يَوْمَئِذٍ يُوَارِي مِنْهُمْ أَحَدًا ، حَتَّى أَنَّ الشَّجَرَةَ لَتَقُولُ : يَا مُؤْمِنُ ، هَذَا كَافِرٌ ، وَيَقُولُ الْحَجَرُ : يَا مُؤْمِنُ ، هَذَا كَافِرٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے پاس جمعہ کے دن آئے تاکہ ان کے سامنے اپنا قرآن مجید پیش کریں اور ان کے قرآن مجید کے ساتھ ملا لیں ، جب جمعہ کا وقت ہوا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا ، ہم نے غسل کیا ، پھر وہ ہمارے پاس خوشبو لے کر آئے ، ہم نے خوشبو لگائی ، پھر ہم مسجد میں آئے ، پھر ہم بیٹھ گئے ، پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مسلمانوں کے تین شہر ہوں گے ، ایک شہر دو سمندروں کے ملنے کی جگہ کے پاس ہو گا ، ایک شہر حیرہ میں ہو گا ، اور ایک شہر شام میں ہو گا ، لوگ تین مرتبہ پریشانی کا شکار ہوں گے ، دجال لوگوں کے درمیان نکلے گا ، مشرق کی طرف سے اسے پسپا کر دیا جائے گا ، تو وہ لوگ جو سب سے پہلے اسے مسترد کریں گے ، وہ اس شہر کے لوگ ہوں گے جو دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ہے ، وہاں رہنے والے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ یہ کہے گا : ہم اس کے پاس جا کر اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ کیا ، ایک گروہ دیہاتیوں کے ساتھ جا کے مل جائے گا ، اور ایک گروہ اس کے ساتھ والے شہر میں چلا جائے گا ، دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے ، جن کے جسم پر سبز طیلسانی کپڑے ہوں گے ، اس کے زیادہ تر پیروکار یہودی اور خواتین ہوں گے ، پھر وہ والے شہر میں آئے گا ، وہاں کے رہنے والے بھی تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ کہے گا : ہم اس کے پاس جا کے اس کا جائزہ لیتے ہیں ، یہ کیا ہے ، ایک گروہ دیہاتیوں کے پاس چلا جائے گا ، اور ایک گروہ اس کے ساتھ والے شہر میں چلا جائے گا ، جو شام کے مغربی حصے میں موجود ہو گا ، مسلمان اس وقت افیق نامی گھاٹی کے پاس اکٹھے ہو جائیں گے ، پھر وہ اپنے جانوروں کو بھیجیں گے ، تو ان کے جانوروں کو نقصان پہنچا دیا جائے گا ( یا وہ جانور مر جائیں گے ) یہ بات ان پر بہت گراں گزرے گی اور مسلمانوں کو شدید بھوک لاحق ہو جائے گی اور سخت مشقت لاحق ہو گی ، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک شخص اپنی کمان کے تانت کو چیر کر اسے کھائے گا ، ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے لوگو ! مدد تمہارے پاس آ گئی ہے ۔ وہ تین مرتبہ یہ کہے گا ، تو لوگ کہیں گے یہ تو کسی سیر شخص کی آواز لگتی ہے ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نزول کریں گے ، یہ فجر کی نماز کے قریب کی بات ہو گی ، مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا : اے روح اللہ ! آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں ، تو وہ فرمائیں گے : اس امت کے لوگ ایک دوسرے کے امیر ہیں ، تو مسلمانوں کا امیر آگے بڑھ کے نماز پڑھائے گا ، جب وہ نماز ختم کر لے گا ، تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اپنا نیزہ پکڑیں گے ، اور پھر دجال کی طرف چل پڑیں گے ، جب دجال انہیں دیکھے گا تو وہ یوں پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اپنا نیزہ اس کے سینے پر رکھ کر اسے قتل کر دیں گے ، اور دجال کے ساتھی پسپا ہو جائیں گے ، اس وقت جو بھی چیز ان ( کفار ) میں سے جس بھی شخص کو چھپائے گی ، یہاں تک کہ اگر کوئی درخت ہو گا ، تو وہ یہ کہے گا : اے مومن ! یہ کافر موجود ہے ، پتھر ہو گا ، تو وہ یہ کہے گا : یہ کافر موجود ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12520
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8392) اخرجه احمد فى المسند (216/4)»