مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَأْسَ الدَّجَّالِ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ ، فَمَنْ قَالَ : أَنْتَ رَبِّي ، افْتُتِنَ ، وَمَنْ قَالَ : كَذَبْتَ ، رَبِّيَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، فَلَا يَضُرُّهُ " . أَوْ قَالَ : " فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال کے سر پر پیچھے کی طرف بالوں کی لٹیں ہوں گی جو شخص یہ کہے گا : تو میرا پروردگار ہے ، وہ آزمائش کا شکار ہو جائے گا ، اور جو شخص یہ کہے گا : تم جھوٹ بول رہے ہو ، میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، میں اسی پر توکل کرتا ہوں ، تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کو فتنہ لاحق نہیں ہو گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔