مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ : شَهِدْتُ يَوْمًا خُطْبَةً لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : فَذَكَرَ حَدِيثَ كُسُوفِ الشَّمْسِ حَتَّى قَالَ : فَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ جُلُوسُهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ . قَالَ زُهَيْرٌ : حَسِبْتُهُ قَالَ : فَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَنْشُدُكُمُ اللَّهُ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي ذَاكَ " . قَالَ : فَقَامَ رِجَالٌ فَقَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ[ ثُمَّ سَكَتُوا ] . ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، وَإِنَّهُمْ كَذَبُوا ، وَلَكِنَّهَا آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - يَخْتَبِرُ بِهَا عِبَادَهُ ، فَيَنْظُرُ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُوهُ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا ، آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبَى تَحْيَا - لِشَيْخٍ حِينَئِذٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - وَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجُ - أَوْ قَالَ : فَإِنَّهُ مَتَى مَا يَخْرُجُ - فَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ [ وَقَالَ حَسَنٌ الْأَشْيَبُ : بِسَيِّءٍ مِنْ عَمَلِهِ ] سَلَفَ ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ أَوْ قَالَ سَوْفَ يَظْهَرُ - عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ ، وَإِنَّهُ يُحْصَرُ الْمُؤْمِنُونَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيُزَلْزَلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ، ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حَتَّى أَنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ - أَوْ قَالَ : أَصْلَ الْحَائِطِ - وَقَالَ حَسَنُ الْأَشْيَبُ : أَوْ أَصْلَ الشَّجَرَةِ - لَيُنَادِي - أَوْ قَالَ : يَقُولُ : يَا مُؤْمِنُ - أَوْ قَالَ : يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ - أَوْ قَالَ : كَافِرٌ تَعَالَ فَاقْتُلْهُ " . قَالَ : " وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْ هَذَا ذِكْرًا وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا " . قَالَ : " ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ " . قَالَ : ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ ذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ مَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعِهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : " فَمَنِ اعْتَصَمَ بِاللَّهِ فَقَالَ : رَبِّيَ اللَّهُ حَيٌّ لَا يَمُوتُ فَلَا عَذَابَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ قَالَ : أَنْتَ رَبِّي فَقَدْ فُتِنَ " ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ثَعْلَبَةَ بْنِ عُبَادَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤ثعلبہ بن عباد عبدی جن کا تعلق اہل بصرہ سے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھا ۔ انہوں نے اپنے خطبے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث ذکر کی ، مصنف کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے سورج گرہن کے بارے میں حدیث نقل کی ہے ، جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : ” پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسری رکعت کے بعد بیٹھنے کے دوران سورج روشن ہو گیا ، یہاں زہیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میرا خیال ہے کہ روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ، پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور اس بات کی گواہی دی کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر آپ نے یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ اگر تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے حکم کی تبلیغ میں کوئی کوتاہی کی ہو ، تو تم مجھے اس کے بارے میں بتاؤ ، راوی بیان کرتے ہیں : تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ کر دی ہے ، اپنی امت کی خیرخواہی کی ہے ، اور اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کیا ہے ، پھر وہ لوگ خاموش ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” امابعد : کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگنا یا چاند گرہن لگنا یا ستاروں کا ٹوٹنا زمین میں موجود بڑے لوگوں کے انتقال کی وجہ سے ہوتا ہے ، ایسا لوگ غلط سوچتے ہیں ، یہ چیزیں اللہ کی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں ہیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو متوجہ کرتا ہے ، اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے ، اللہ کی قسم ! جب میں یہاں کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا تو میں نے وہ چیزیں دیکھیں جن کا تم اپنے دنیاوی معاملات کے حوالے سے اور اپنی آخرت میں سامنا کرو گے ، اللہ کی قسم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک نبوت کے تیس جھوٹے دعوے دار نہیں نکلیں گے ، جن میں سے آخر میں کانا دجال ہو گا ، جس کی بائیں آنکھ ضائع ہو چکی ہو گی ، وہ ابوتحیا کی آنکھ کی مانند ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کے بارے میں یہ بات کہی جو انصار سے تعلق رکھتا تھا ، اور اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب وہ نکلے گا ، تو وہ یہ کہے گا : وہ اللہ ہے ، جو شخص اس پر ایمان لائے گا اور اس کی تصدیق کرے گا اور اس کی پیروی کرے گا ، تو اس شخص نے اس سے پہلے جو بھی نیک عمل کیا ہو گا ، وہ اسے فائدہ نہیں دے گا ، اور جو شخص اس کو جھٹلائے گا اس کی تکذیب کرے گا ، تو اس شخص کے کسی عمل کے حوالے سے اسے سزا نہیں دی جائے گی ، جو عمل اس نے پہلے کیا تھا ( یہاں کچھ الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، تاہم اس کا مفہوم یہی ہے ) وہ عنقریب ظاہر ہو گا ، پوری روے زمین پر غالب آ جائے گا ، صرف حرم اور بیت المقدس پر غالب نہیں آئے گا ، اس وقت اہل ایمان بیت المقدس میں قلعہ بند ہو جائیں گے ، پھر وہاں شدید زلزلہ آئے گا اور پھر اللہ تعالیٰ دجال کو ہلاکت کا شکار کرے گا ، یہاں تک کہ کسی دیوار کی بنیاد یا کسی درخت کی جڑ پکار کر یہ کہے گی : اے مومن ، یا اے مسلمان ! یہ یہودی ہے یا یہ کافر ہے ، تم آؤ اور اسے قتل کر دو ( یہ تمام شک راویوں کو ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک تم لوگ ایسے امور نہیں دیکھ لو گے ، جن کے بارے میں تم پریشانی کا شکار ہو گے ، اور ایک دوسرے سے دریافت کرو گے کہ کیا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی چیز کے بارے میں تمہارے سامنے ذکر کیا ہے ؟ اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک پہاڑ اپنی جگہ سے ہل نہیں جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر اس کے بعد قبض کرنا ہو گا ( یعنی دنیا ختم ہو جائے گی ) ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک مرتبہ میں سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں موجود تھا ۔ انہوں نے اس خطبہ میں یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے کوئی ایک کلمہ اپنی جگہ سے نہ آگے کیا نہ پیچھے کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص اللہ ( کے دین ) کو مضبوطی سے تھام لے گا ، اور یہ کہے گا : میرا پروردگار تو اللہ تعالیٰ ہے ، جو زندہ ہے ، جسے موت نہیں آئے گی ، تو اس شخص کو کوئی عذاب نہیں ہو گا ، اور جو شخص دجال سے یہ کہے گا : تو میرا پروردگار ہے ، تو وہ آزمائش میں مبتلا ہو جائے گا ۔ “