مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ مُعْتِمٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الدَّجَّالُ لَيْسَ بِهِ خَفَاءٌ ، إِنَّهُ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَيَدْعُو لِي فَيُتَّبَعُ ، وَيَنْصَبُ لِلنَّاسِ فَيُقَاتِلُهُمْ وَيَظْهَرُ عَلَيْهِمْ ، فَلَا يَزَالُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يَقْدَمَ الْكُوفَةَ ، فَيُظْهِرُ دِينَ اللَّهِ وَيَعْمَلُ بِهِ فَيُتَّبَعُ وَيُحَبُّ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ : إِنِّي نَبِيٌّ ، فَيَفْزَعُ مِنْ ذَلِكَ كُلُّ ذِي لُبٍّ وَيُفَارِقُهُ ، فَيَمْكُثُ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَقُولَ : أَنَا اللَّهُ ، فَتُغْشَى عَيْنُهُ ، وَتُقْطَعُ أُذُنُهُ ، وَيُكْتَبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، فَلَا يَخْفَى عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ، فَيُفَارِقُهُ كُلُّ أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ ، وَيَكُونُ أَصْحَابُهُ وَجُنُودُهُ الْمَجُوسَ وَالْيَهُودَ وَالنَّصَارَى وَهَذِهِ الْأَعَاجِمُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، ثُمَّ يَدْعُو بِرَجُلٍ فِيمَا يَرَوْنَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُقْتَلُ ، ثُمَّ يَقْطَعُ أَعْضَاءَهُ كُلَّ عُضْوٍ عَلَى حِدَةٍ ، فَيُفَرِّقُ بَيْنَهَا حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ ،ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهَا ، ثُمَّ يَضْرِبُ بِعَصَاهُ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ ، فَيَقُولُ : أَنَا اللَّهُ الَّذِي أُحْيِي وَأُمِيتُ ، وَذَلِكَ كُلُّهُ سِحْرٌ يَسْحَرُ بِهِ أَعْيُنَ النَّاسِ لَيْسَ يَعْمَلُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سلیمان بن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن معتم رضی اللہ عنہ میرے ہاں ٹھہرے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، انہوں نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے ۔ وہ مشرق کی طرف سے آئے گا اور دعوت دے گا ، تو اس کی پیروی کی جائے گی ، وہ لوگوں کے لئے جھنڈا نصب کرے گا ، پھر لوگوں کے ساتھ جنگ کرے گا ، اور وہ ان پر غالب آ جائے گا ، وہ اسی طرح کرتا رہے گا ، یہاں تک کہ کوفہ آ جائے گا ، پھر وہ اللہ کے دین کو ( یعنی خود کو اس کا پیروکار ) ظاہر کرے گا ، اور اس پر عمل کرے گا ، تو اس کی پیروی کی جائے گی اور اس بارے میں اس کے پیچھے چلا جائے گا ، پھر اس کے بعد وہ یہ کہے گا : میں نبی ہوں ۔ اس وقت ہر سمجھ دار شخص خوف زدہ ہو جائے گا ، اور اس سے الگ ہو جائے گا ، اس کے بعد وہ اسی حالت میں رہے گا یہاں تک کہ پھر وہ یہ کہے گا : میں اللہ تعالیٰ ہوں ، پھر اس کی ایک آنکھ ضائع ہو جائے گی اور اس کا کان کٹ جائے گا ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا جائے گا ، اور یہ بات کسی مسلمان سے پوشیدہ نہیں رہے گی ، مخلوق میں سے ہر وہ شخص اس سے جدا ہو جائے گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے جتنا ایمان موجود ہو گا ، دجال کے ساتھی اور اس کے لشکر کے افراد مجوسی یہودی اور عیسائی ہوں گے ، اور مشرکین سے تعلق رکھنے والے عجمی ہوں گے ، پھر دجال ایک شخص کو بلائے گا ، لوگ یہ دیکھ رہے ہوں گے اس شخص کے بارے میں حکم دیا جائے گا ، اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا ، پھر اس کے اعضاء کو کاٹ دیا جائے گا ، ان میں سے ہر ایک عضو کو الگ سے کاٹا جائے گا ، اس کے اعضاء لوگوں کی نظر میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ، پھر دجال انہیں اکٹھا کرے گا اور ان پر عصا مارے گا ، تو وہ شخص کھڑا ہو جائے گا ، تو دجال کہنے گا : میں وہ اللہ ہوں جو زندگی دیتا ہے اور میں وہ اللہ ہوں اور میں موت دیتا ہوں ، حالانکہ یہ سب کچھ جادو کا نتیجہ ہو گا ، جو لوگوں کی نظروں کو باندھ دے گا ، اس نے ایسا کچھ نہیں کیا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ، اور وہ متروک ہے ۔