مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى ، بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ وَالْآخَرُ نَارٌ ، فَجَنَّتُهُ نَارٌ وَنَارُهُ جَنَّةٌ ، مَعَهُ مَلَكَانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُشَبَّهَانِ بِنَبِيَّيْنِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ ، وَذَلِكَ فِتْنَةُ النَّاسِ ، يَقُولُ : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أُحْيِي وَأُمِيتُ ؟ فَيَقُولُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ : كَذَبْتَ ، فَمَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ ، فَيَقُولُ لَهُ : صَدَقْتَ وَيَسْمَعُهُ النَّاسُ ، فَيَحْسَبُونَ أَنَّهُ صَدَّقَ الدَّجَّالَ ، وَذَلِكَ فِتْنَةٌ ، ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُ فِيهَا ، ثُمَّ يَقُولُ : هَذِهِ قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ ، ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، وہ بائیں آنکھ سے کانا ہو گا ، اس کی دائیں آنکھ پر بڑا سا ٹکڑا ہو گا ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی جن میں سے ایک جنت ہو گی اور دوسری آگ ہو گی ، اس کی جنت درحقیقت آگ ہو گی اور اس کی آگ درحقیقت جنت ہو گی ، اس کے ساتھ فرشتوں میں سے دو فرشتے ہوں گے جو دو انبیاء کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں گے ، ان میں سے ایک اس کے دائیں طرف ہو گا ، اور دوسرا اس کے بائیں طرف ہو گا ، اور یہ چیز لوگوں کے لئے آزمائش کی وجہ ہو گی ، وہ کہے گا : کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ، میں زندگی دیتا ہوں اور میں موت دیتا ہوں ، تو دونوں فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہے گا : تم جھوٹ بول رہے ہو ، لوگوں میں سے کوئی بھی یہ بات نہیں سن سکے گا ، صرف دوسرا فرشتہ یہ بات سن سکے گا ، اور وہ ( یعنی دوسرا فرشتہ ) یہ کہے گا : تم نے ٹھیک کہا: ہے ، لیکن دوسرے فرشتے کی بات لوگ سن لیں گے ، اور لوگ یہ سمجھیں گے کہ اس نے دجال کی تصدیق کی ہے ، تو یہ ایک آزمائش ہو گی ، پھر وہ چلتا رہے گا ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے گا ، اسے اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی تو وہ کہے گا : یہ ان صاحب ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بستی ہے ، پھر وہ چلے گا ، اور شام آ جائے گا ، وہاں عقبہ افیق کے مقام پر اللہ تعالیٰ اسے ہلاکت کا شکار کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔