مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْعَقِيقِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عَلَى الثَّنِيَّةِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا ثَنِيَّةُ الْحَوْضِ الَّتِي بِالْعَقِيقِ أَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ عَدُوِّ اللَّهِ الْمَسِيحِ ، إِنَّهُ يُقْبِلُ حَتَّى يَنْزِلَ مِنْ كَذَا حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيْهِ غَوْغَاءُ النَّاسِ ، مَا مِنْ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ أَوْ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهِ ، مَعَهُ صُورَتَانِ صُورَةُ الْجَنَّةِ وَصُورَةُ النَّارِ [خَضْرَاءُ ] ، مَعَهُ شَيَاطِينُ يُشَبَّهُونَ بِالْأَمْوَاتِ يَقُولُونَ لِلْحَيِّ : تَعْرِفُنِي ؟ أَنَا أَخُوكَ أَوْ أَبُوكَ أَوْ ذُو قَرَابَةٍ مِنْهُ ، أَلَسْتَ قَدِمْتَ ؟ هَذَا رَبُّنَا فَاتَّبِعْهُ . فَيَقْضِ اللَّهُ مَا يَشَاءُ مِنْهُ ، وَيَبْعَثُ اللَّهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيُسْكِتُهُ وَيُبَكِّتُهُ وَيَقُولُ [ هَذَا الْكَذَّابُ ] : أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا يَغُرَّنَّكُمْ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ وَيَقُولُ بَاطِلًا وَلَيْسَ رَبُّكُمْ بِأَعْوَرَ . فَيَقُولُ : هَلْ أَنْتَ مُتَّبِعِي ؟ فَيَأْبَى ، فَيَشُقُّهُ شَقَّتَيْنِ ، وَيُعْطَى ذَلِكَ ، وَيَقُولُ : أُعِيدُهُ لَكُمْ ؟ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدَّ مَا كَانَ تَكْذِيبًا وَأَشَدَّهُ شَتْمًا ، فَيَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مَا رَأَيْتُمْ بَلَاءٌ ابْتُلِيتُمْ بِهِ وَفِتْنَةٌ افْتُتِنْتُمْ بِهَا ، إِنْ كَانَ صَادِقًا فَلْيُعِدْنِي مَرَّةً أُخْرَى ، أَلَا هُوَ كَذَّابٌ . فَيَأْمُرُ بِهِ إِلَى هَذِهِ النَّارِ وَهِيَ صُورَةُ الْجَنَّةِ فَيَخْرُجُ قِبَلَ الشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقیق سے آ رہا تھا ، یہاں تک کہ جب ہم اس گھاٹی کے پاس پہنچے جسے ثنیہ حوض کہتے ہیں : جو عقیق کے مقام پر ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : گویا کہ میں اس وقت بھی اللہ کے دشمن دجال کے آغاز والی جگہ کو دیکھ رہا ہوں ، وہ آئے گا ، یہاں تک کہ فلاں جگہ پر پڑاؤ کرے گا ، اور برے لوگ نکل کر اس کی طرف چلے جائیں گے ، اس وقت مدینہ منورہ کے ہر راستے پر ایک یا دو فرشتے موجود ہوں گے جو اس کی حفاظت کر رہے ہوں ، دجال کے ساتھ دو ظاہری شکل و صورت والی چیزیں ہوں گی ، ایک کی ظاہری شکل جنت کی ہو گی ، ایک کی ظاہری شکل جہنم کی ہو گی ، دجال کے ساتھ شیاطین ہوں گے جو مرحومین کی شکل و صورت اختیار کر لیں گے ، اور وہ زندہ شخص سے کہیں گے تم مجھے پہچانتے ہو ، میں تمہارا بھائی ہوں یا تمہارا باپ ہوں یا تمہارا رشتے دار ہوں ، کیا میرا انتقال نہیں ہو چکا ہے ، یہ ہمارا پروردگار ہے ، تم اس کی پیروی کر لو ، پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کے بارے میں جو چاہے گا فیصلہ کر لے گا ، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں سے ایک شخص کو بھیجے گا ، وہ دجال کو خاموش کروائے گا ، اور اس پر تنقید کرتے ہوئے کہے گا : یہ کذاب ہے ، لوگو یہ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کیونکہ یہ کذاب ہے ، اور یہ جھوٹ بولتا ہے ، تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ، دجال کہے گا : کیا تم میری پیروی کرو گے ؟ وہ شخص انکار کر دے گا ، تو دجال اسے دو حصوں میں چیر دے گا ، پھر دجال کہے گا : میں اسے تمہارے سامنے دوبارہ زندہ کرتا ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوبارہ زندہ کرے گا ، تو وہ دجال کی اس سے زیادہ تکذیب کرنے والا ہو گا ، اور اس سے زیادہ اس پر تنقید کرنے والا ہو گا ، پھر وہ شخص کہے گا : اے لوگو تم نے جو آزمائش دیکھی ہے تمہیں اس حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے ، یہ ایک فتنہ ہے جس میں تمہیں مبتلا کیا گیا ہے ، اگر یہ سچا ہے ، تو اسے کہو کہ یہ دوبارہ میرے ساتھ ایسا کر لے ، خبردار ! یہ کذاب ہے ، پھر دجال اسے آگ کی طرف لے جانے کا حکم دے گا ، جو درحقیقت جنت ہو گی ، پھر دجال نکل کر شام کی طرف چلا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔