حدیث نمبر: 12515
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَادَى : " الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ " . فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الظُّهْرِ ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ . قَالَتْ فَاطِمَةُ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعًا يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّ هَذِهِ طِيبَةُ ؟ " ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ أَنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّامِ " ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ، ثُمَّ أُرِيحَ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " بَلْ فِي بَحْرِ الْعِرَاقِ بَلْ هُوَ فِي بَحْرِ الْعِرَاقِ ، يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَلْدَةٍ يُقَالُ لَهَا أَصْبَهَانُ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَاهَا يُقَالُ لَهَا رُسْتَقَابَاذُ يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ ، مَعَهُ نَهْرَانِ نَهْرٌ مِنْ مَاءٍ وَنَهْرٌ مِنْ نَارٍ ، فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ ذَلِكَ فَقِيلَ لَهُ : ادْخُلِ الْمَاءَ فَلَا يَدْخُلْ فَإِنَّهُ نَارٌ ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ : ادْخُلِ النَّارَ فَلْيَدْخُلْهَا فَإِنَّهَا مَاءٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ فِي حَدِيثِهَا الطَّوِيلِ ، وَفِيهِ سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ نے اعلان کروایا ، لوگ اکٹھے ہو جائیں تو میں انصار کی کچھ خواتین کے ہمراہ نکلی ، یہاں تک کہ ہم مسجد میں آ گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر آپ منبر پر چڑھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے ، یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : خبردار میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ یہ ( شہر ) طیبہ ہے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : خبردار ! میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ ( دجال ) شام کے سمندر میں ہے پھر آپ پر گھڑی بھر کے لئے مخصوص کیفیت طاری ہوئی ، جب آپ کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ وہ عراق کے سمندر میں ہے بلکہ وہ عراق کے سمندر میں ہے ، اور جب وہ نکلے گا تو وہ ایک ایسے شہر میں سے نکلے گا جس کا نام اصبہان ہو گا ۔ وہ یہ وہاں کی ایک بستی میں سے نکلے گا جس کا نام رستقا باذ ہو گا ، جب وہ نکلے گا تو اس کے آگے ستر ہزار لوگ ہوں گے ، جن کے جسم پر سبز طیلسانی کپڑے ہوں گے ، دجال کے ساتھ دو نہریں ہوں گی ، ایک پانی کی نہر ہو گی اور ایک آگ کی نہر ہو گی ، تم میں سے جو شخص اس کا زمانہ پائے اور اس سے یہ کہا: جائے کہ تم پانی میں داخل ہو جاؤ تو وہ داخل نہ ہو کیونکہ وہ درحقیقت آگ ہو گی اور جب اس سے یہ کہا: جاؤ تم آگ میں داخل ہو جائے ، تو وہ اس میں داخل ہو جائے کیونکہ وہ پانی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جو ایک طویل حدیث ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سیف بن مسکین ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12515
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (388/24)»