حدیث نمبر: 12514
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ قَوْمًا دَخَلُوا عَلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالُوا لَهُ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُشْتَبَهْ عَلَيْكَ .[ فَقَالَ أَجْلِسُونِي ] فَأَخَذَ بَعْضُ الْقَوْمِ بِيَدِهِ ، فَجَلَسَ فَقَالَ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ ، وَأَنَا أُحَذِّرُكُمُ الدَّجَّالَ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ، يَقْرَؤُهُ الْكَاتِبُ وَغَيْرُ الْكَاتِبِ ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُنَيْسُ بْنُ عَامِرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جنادہ بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت بیمار تھے ، لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جس میں آپ کو کوئی اشتباہ نہ ہو ، تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے بٹھا دو ! حاضرین میں سے کسی نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں بٹھا دیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہیں ایک ایسی حدیث بیان کروں گا ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ) ” ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میں بھی تمہیں دجال سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں وہ کانا ہو گا ، اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا ، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص پڑھ سکے گا ، اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی ۔ اس کی آگ ( درحقیقت ) جنت ہو گی اور اس کی جنت ( درحقیقت ) جہنم ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خنیس بن عامر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال ، اصبہان کی طرف سے نکلے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں محمد بن محمویہ جوہری کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ أَصْبَهَانَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْجَوْهَرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”دجال اصفہان ایران کی طرف سے نکلے گا“۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الاوسط میں محمد بن محموِیہ جوہری کی سند سے روایت کیا ہے ، اور حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں اسے نہیں پہچان سکا/یہ میرے لیے غیر معروف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12514
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3388) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (197)»