مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ يَهُودِ أَصْبَهَانَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَزَادَ " مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ " مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَرِوَايَتُهُ [عَنْهُ ] جَيِّدَةٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كَذَلِكَ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دجال اصبہان کے یہودیوں میں سے نکلے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے ، جن کے جسم پر سبز طیلسانی کپڑے ہوں گے ۔ “
یہ روایت محمد بن مصعب نے اوزاعی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اوزاعی سے ان کی نقل کردہ روایت عمدہ ہوتی ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے انہیں ضعیف کہا: ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بھی اسی طرح نقل کی ہے ۔