حدیث نمبر: 12512
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ كُفِيتُمُوهُ ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَإِنَّ رَبَّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَيَنْزِلُ نَاحِيَتَهَا وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ مَدِينَةَ فِلَسْطِينَ بِبَابِ لُدٍّ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً : " حَتَّى يَأْتِيَ مَدِينَةَ فِلَسْطِينَ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَيَقْتُلُهُ ، وَيَمْكُثُ عِيسَى فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، تو میں رو رہی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے دجال کا خیال آیا تو میں رونے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ اس وقت نکلا ، جب میں تمہارے درمیان موجود ہوا تو تم سب کے مقابلے میں ، میں اس کے لئے کفایت کر جاؤں گا ، اور اگر وہ میرے بعد نکلا ، تو تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ، دجال اصبہان کے یہودیوں میں سے نکلے گا ، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ آئے گا ، اور اس کے کنارے پر پڑاؤ کرے گا ، اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے ، جن میں سے ہر ایک دروازے پر دو فرشتے موجود ہوں گے ، پھر یہاں کے رہنے والے برے لوگ نکل کر دجال کے پاس چلے جائیں گے ، پھر وہ شام میں فلسطین کے ایک شہر باب لد میں آئے گا ( یہاں ابوداؤد نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کے ہیں ) ، یہاں تک کہ وہ فلسطین کے شہر باب لد میں آئے گا ، تو وہاں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا ، پھر وہ اسے قتل کر دیں گے ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام چالیس سال تک عادل حکمران اور انصاف کرنے والے حکمران کے طور پر رہیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حضرمی بن لاحق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12512
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (75/6)»