حدیث نمبر: 12511
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَمَا نَدْرِي أَنَّهُ الْوَدَاعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ . لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّبِيُّونَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ - مِنْ بَعْدِهِ ، أَلَا مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَيَّنَ عَلَيْكُمْ ، أَنَّ رَبَّكُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيْسَ بِأَعْوَرَ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم حجۃ الوداع کے موقع پر بات چیت کر رہے تھے ، ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے رخصتی والا حج ہے ، جب حجۃ الوداع کا موقع آیا تو آپ نے خطبہ دیتے ہوئے دجال کا ذکر کیا اور اس کے ذکر کو طول دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ہے ۔ اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے ، سیدنا نوح علیہ السلام نے اور ان کے بعد آنے والے انبیاء نے بھی ایسا کیا ہے خبردار اس کا معاملہ تم لوگوں سے جتنا بھی مخفی رہے گا ، اور یہ بات بھی تم سے مخفی نہیں رہنی چاہیے کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12511
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (135/2)»